Abbas Baloch 🇵🇰
Entry No. 29
ایک پہیلی ہے
ایک پہیلی ہے نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
اک خواب ہے دنیا کسی دیوانے کا
ہر کلی کی تمنا ہے کل کے پھول بن جانا
ہر پھول کا مقدر ہے مرجھانے کا
قدم آتے آتے چوکھٹ تک پلٹ جاتے ہیں
پکارتا رہ جاتا ہے جن کو ہر کونہ آشیانے کا
ہاتھ آتی ہے منہ کو مگر لگتی نہیں
زندگی نام ہے ٹوٹے ہوئے پیمانے کا
اک روگ ہے جو لگ جائے تو مٹ جانا ہے
حرف آخر ہے محبت ہر فسانے کا
ہے عشق وہ خوبصورت بلا جسکا کوئی توڑ نہیں
شمع میں کھینچے چلے مرنا ہے مقدر پروانے کا
عباس بلوچ
📢 Get your Promotion image
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
