🌹 غزل 🌹
جھوٹا تو ہم نے کوئی بھی وعدہ نہیں کیا
تم نے ہی اعتبار زیادہ نہیں کیا
حالانکہ ان سے لاکھ شکایت کے با وجود
ترکِ وفا کا ہم نے ارادہ نہیں کیا
ہوتی کہاں ہے روح کے اشہب پہ یہ سوار
دنیا کو ہم نے تن کا لبادہ نہیں کیا
ہر پل غموں کے ناز اٹھاتے رہے ہیں ہم
رنگینیئ حیات کو سادہ نہیں کیا
ان سے تو منزلوں پہ ہی کچھ لب کشائی کی
اظہارِ آرزو سرِ جادہ نہیں کیا
ہم نے عبادتوں کی طرح شعر گوئی کی
مغزِ سخن کو عشق کا مادہ نہیں کیا
جس کو نبھا سکیں نہ منورؔ کبھی بھی ہم
ایسا کسی سے کوئی بھی وعدہ نہیں کیا
