🌹 غزل 🌹
وہ کون ہے جس کو نہیں درکار آگہی
ہر شخص ہے دنیا میں طلبگارِ آگہی
وہ جس پے ہم کو ناز تھا اپنی حیات میں
چھبتا وہی ہے ذہن میں اب خار آگہی
کھلتے ہیں مہر خموشی جس کےلبوں پر لگی رہی
اس کے قلب پہ اسرار آگہی
ہر ہر قدم پہ لوگ دکانیں لگائے ہیں
ہر موڑ پر سجے ہوئے بازار آگہی
بھرتی ہے موتیوں سے یہی دامنی کو یہ
آ جاتی ہے جب جوش میں اَبحار آگہی
اِس عشق میں اے عقل ترا کام کچھ نہیں
دیوانے ہم کو لگتے ہیں بیزارِ آگہی
اُن سے عظیم ہم کو نہ عادل کوئی ملا
تا عمر وہ جو کرتے ہیں انکارِ آگہی
خاروں پہ وہ رخسارکو کر دیتے ہیں رنگین
مل جائے جنہیں لذّتِ آزارِ آگہی
ہرگز نہیں رہتے ہیں منوؔر سے وہ غافل
جو قلب و نظر رکھتی ہے بیدار آگہی

بہت خوب