آنکھیں
کس اذیت سے ہیں دوچار یہ میری آنکھیں
دیکھنا چاہتی ہیں لاچار ہیں میری آنکھیں
سامنے اسکے چھلکتا نہیں آنسو میرا
رونے کا فن بھی ہے فنکار بھی میری آنکھیں
یہ محبت کسی ایک لفظ کی محتاج نہیں
پڑھنا چاہو تو یہ اظہار ہیں میری آنکھیں
میں مسلسل جو تجھے دیکھ نہیں پاتا ہوں
تیری عزت کی حیادار ہیں میری آنکھیں
ہو بھی سکتا ہے زباں کاٹ دی جاۓ میری
دیکھنا ہونگیں طرف دار یہ میری آنکھیں
کس لیے چھوڑ دیا تو نے یہ آنگن میرا
میں تو کہتا تھا طلبگار ہیں میری آنکھیں
اس محبت نے میری آنکھوں کو رسوا ہے کیا
شہر بھر صاحبِ کردار تھیں میری آنکھیں
ان کو شاید میری آنکھوں سے گلہ رہتا ہو
اس لیے آج بھی انکار ہیں میری آنکھیں
چاہیئے ان کو کوئی چاہنے والا کاظمٓ
لیجیے ہم بھی وفادار بھی میری آنکھیں
