اے جگنو ساتھ لے چل مجھے
اے جگنو ساتھ لے چل مجھے
اندھیرو سے اجالو میں
غمو وسے دور خوشیو ں میں
چمکتے ہوے ستاروں ںمیں
اے جگنو ساتھ لے چل مجھے
موحبّت کی داشتانوں میں
زندگی کی ارمانو میں
کھلے آسمانو ں میں
اے جگنو ساتھ لے چل مجھے
کسی حسین انجمن میں
کسی حسین جہاں میں
خوابو ں کے عالم میں
اے جگنو ساتھ لے چل مجھے
تڑپ ہو خوابوں کو پانے میں
ہمّت ہو منزل کو مکمّل کرنے میں
دولت ہو علم کے خزانو ں میں
چاہت ہو کسی کو ہنسانے میں
اے جگنو ساتھ لے چل مجھے
صباء خاتون خان
