فقط کچھ نہیں انتظار لاحاصل ہے شام
آ بتلاو میں تجھے شام کا منظر
آ جاتی ہے یہ اچانک دھڑکن میں سمانے
نہ دیتی ہے دستک نہ آتی ہےاسے رسائی
پرندوں کے غول میں یادوں کا اجالا لیے
فقط کچھ لمحے دے کر ڈھل جاتی ہے یہ
یادوں کا اک غوطہ لے کر دہلا
دیتی ہے یہ دل کی دنیا
پانی میں بہاتی موج ہے شام
سمایٹتی ہے لمحوں کو سنگ اپنے
ساحلوں سے دور اک راز ہے شام
میری آخری محبت کی اختتام ہے شام
خاموشی سے دل کی رگوں کو چھیڑ جاتی ہے
فقط کچھ نہیں انتظار لاحاصل ہے شام
تیرے سنگ ہر سحر کی آخری پہر ہے یہ شام
قدسیہ کائنات
