You are currently viewing Jugnu by Umaima Yousaf

Jugnu by Umaima Yousaf




جگنو

رات پھیلی تو آنگن بھرا جگنوؤں سے
زرا بھر اندھیرا گھٹا جگنوؤں سے
پتنگے نکل کر بتانے کو آئے
کیسے جلنا ہے انکو سکھانے کو آئے
حوصلہ جگنوؤں کا بجھانے کو آئے
ساتھ ہی ساتھ شمع دِکھانے کو لائے

مثلِ شمع نہ روشن کبھی بن سکو گے
اندھیروں سے آخر کب تک لڑو گے

اک جگنو جگ مگ کرتا مسکرایا
رُک کر اُس نے اتنا بتایا
ہمیں اِس طرح سے ہے رب نے بنایا
وہی جس نے تم کو بھی اُڑنا سکھایا

روشنی تو ہے ناں کیا ہے جو کم ہے
ملال ہے مجھ کو نہ ہی اسکا غم ہے

اندھیروں سے ڈرایا جا سکتا ہے
شمع کو بجھایا جا سکتا ہے
تمہیں پاس بلایا جا سکتا ہے
شعلے سے جلایا جا سکتا ہے

میں شمع کسی کا پابند نہیں ہوں
روشنی ہوں خود ضرورتمند نہیں ہوں

عمامہ یوسف

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 2.5 / 5. Vote count: 4

No votes so far! Be the first to rate this post.


Leave a Reply