شام کا رخ
نہ شرخ شام کا دُکھ ہے نہ شرد رات کا دُکھ
مُجھے جو دُکھ ہے وو ہے تیرے انتظار کا دُکھ
ہمارا دُکھ جو سنوگے تمہیں بھی دُکھ ہوگا
ہمارے دُکھ سے کہیں کم ہے کائنات کا دُکھ
ہر ایک رات بنا تیرے کیسے کاٹی ہے
سناؤں کیسے تمہیں اپنی ہر ایک رات کا دُکھ
تمہیں جو دُکھ ہے میں جانتا تو ہوں لیکن
بیان کیسے كروں میں تمہاری جات کا دُکھ
ہے پیار تمسے اُسے که آیا ہوتا
مُجھے رہیگا عمر بھر اس ایک بات کا دُکھ
سفیان ساحر
