| دردمند شام |
خدا کرے پھر ایسی کوئی شام نہ ہو
میرے لب سے تیرا نام کبھی عیاں نہ ہو
تیرے سنگ گزرے ہر روز یہی شام
پھر جہاں میں کسی کا گماں نہ ہو
تیرے خیال میں رہوں چاہے دن ہو یا شام
پھر مجھے تیرے سوا کسی کا دھیاں نہ ہو
اندھیروں میں ڈوبے، ڈھل جاۓ جب شام
چاہے ہوجاۓ رسوا پر یہ دل ناداں نہ ہو
گزرجاۓ مصطفیٰ کی زندگی کی ہر شام
سزا بن جاۓ جس میں محبت کا نشاں نہ ہو
عبدال مصطفیٰ فیصل

Nice attempt
Wah! kia baat hai