Chand Alfaaz by Maria




Maria 🇵🇰

Entry No. 39

5.0/5 · 1 vote

چند الفاظ

افکار زمانہ مقام صنم لینے لگے ہیں

وسوسے ذہن میں جنم لینے لگے ہیں


امید تھی وہ پاس رکھیں گے وعدے کا

وہ تو اب میرا نام ہی کم لینے لگے ہیں


اب تو اپنے حال پہ یقین ہی نہیں آتا

زخم اتنے گہرے کہ مرہم لینے لگے ہیں


یہ جدت کے اثرات ہیں، جو تو پیدا کر گیا

کہ ہم اب راہ کی طرف قدم لینے لگے ہیں


اس سے ملاقات ہو تو پوچھ لینا، کہ

وہ وفاء کی کتنی رقم لینے لگے ہیں


اب دیکھا ہے زمانے کو قریب سے

کچھ لوگ ستم لینے لگے ہیں


ماریہ

5.0 / 5 · 1 vote

📢 Get your Promotion image

This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.

Leave a Reply