Maria 🇵🇰
Entry No. 39
چند الفاظ
افکار زمانہ مقام صنم لینے لگے ہیں
وسوسے ذہن میں جنم لینے لگے ہیں
امید تھی وہ پاس رکھیں گے وعدے کا
وہ تو اب میرا نام ہی کم لینے لگے ہیں
اب تو اپنے حال پہ یقین ہی نہیں آتا
زخم اتنے گہرے کہ مرہم لینے لگے ہیں
یہ جدت کے اثرات ہیں، جو تو پیدا کر گیا
کہ ہم اب راہ کی طرف قدم لینے لگے ہیں
اس سے ملاقات ہو تو پوچھ لینا، کہ
وہ وفاء کی کتنی رقم لینے لگے ہیں
اب دیکھا ہے زمانے کو قریب سے
کچھ لوگ ستم لینے لگے ہیں
ماریہ
📢 Get your Promotion image
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
