Ghazal by Sagar Haider Abbasi




Sagar Haider Abbasi 🇵🇰

Entry No. 37

4.3/5 · 4 votes

غزل

جو آنکھوں میں ٹھہر جائیں، وہی منظر ستاتے ہیں

جنہیں دل میں بسایا ہو، وہی دل کو دُکھاتے ہیں


محبت کے سوا بھی اور کتنے زخم ہیں دل میں

مگر ہم دل کے ملبے سے تری یادیں اٹھاتے ہیں


غمِ الفت کے وہ آنسو جو آنکھوں میں چھپائے ہیں

جو دامن میں نہیں گرتے، انہیں دل پر گراتے ہیں


ہنر رشتے نبھانے کا ہمیں بھی خوب آتا ہے

ملے کوئی منافق بھی تو سینے سے لگاتے ہیں


یہ دنیا یاد رکھتی ہے فقط چہروں کی رونق کو

جو اندر سے بکھر جائیں، انہیں سب بھول جاتے ہیں


سنو! اس دور میں سچ بولنا بھی جرم ہے، ساگر

جو آئینہ دکھاتے ہیں، وہی پتھر بھی کھاتے ہیں


ساگر حیدر عباسی

4.3 / 5 · 4 votes

📢 Get your Promotion image

This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.

Leave a Reply