Amna Tariq 🇵🇰
Entry No. 32
عشق
ہر کوئی عشق میں فنا نہیں ہوتا
کسی کو چاہنا گناہ نہیں ہوتا
وہ پوچھتا ہے، کتنا چاہتا ہے مجھے؟
وہ کیا جانے، پیار لفظوں میں بیاں نہیں ہوتا
کسی کی یاد میں مرنا بھی کوئی کھیل نہیں ہوتا
ساری عمر کا رونا ہے، کوئی ایک رات کا نہیں ہوتا
یہ وہ انمول درد ہے جو خدا چن کر دیتا ہے
عشق توفیق ہے صاحب! یہ ہر کسی کو عطا نہیں ہوتا
مر مٹنے کی چاہ ہے، میرے عشق کی کوئی انتہا نہیں
تُو نے تو کی بس بے رخی، تجھ میں ذرا بھی وفا نہیں
یہ دردِ عشق اکیلا سہیں، اب کس سے جا کر کہیں بھلا
ساری زندگی لٹا دی جس پہ، وہ پھر بھی میرا نہیں ہوتا
وہ ساتھ نہیں ہے، پھر بھی رگ رگ میں بسا ہے
اِس دل کو مگر آج بھی کوئی ،وہم سا نہیں ہوتا؟
کئی راتیں جاگ کر کاٹیں اُسی اُمید پر آمنہؔ
کہ ہر انتظار کا انجام، آخرکار وصال نہیں ہوتا
آمنہ طارق
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
