Amna Nadeem 🇵🇰
Entry No. 34
کاش کوئی ہو
جب آنکھ سے آنسو ٹپکتا ہے
تو دل تڑپتا ہے
اے دل! اتنا مت تڑپ
کہ تڑپ تڑپ کے ٹوٹ جائے
آنکھوں میں آنسوں ہیں
یہ نہیں پتہ
پر بس
دل یہ کہہ رہا ہے
کاش کوئی ہو
جو مجھے محبت دے
پر دماغ کہتا ہے
تو جو سوچتی ہے
ویسا ہو نہیں سکتا
تو جو تمنا کرتی ہے
ویسا کوئی بھی نہیں
اے دل تو بتا
ہم کیا کریں
کوئی تو ہو اپنا
جو رات کے اندھیرے میں بھی پاس ہو
کوئی تو ہو
جو دن کی پہلی کرن پر بھی پاس ہو
جو آنسو صاف کرے
اور کہے
میری جان ہو تم
جو بھی ہو جیسی بھی ہو
بس میری ہو
تم جتنا مرضی غصہ کرو
ضد کرو
تو یا ہسو
تم سے محبت کرنے کے لیے
میں ہوں
جب تک ہوں
تمہیں پیار دونگا
تمہارے زخموں کا مرہم بنوں گا
اور تمہارے الاوہ
اب مجھے کوئی نہیں چاہیے
تم بہت حسین کو
پتا ہے مجھے
تم سے زیادہ حسین لڑکیاں ہیں
پر میرے لئے تم ہی ہو
اے دل
اتنا مت سوچا
یہ سب تو افسانوں میں ہوتا ہے
زندگی بہت مختلف ہے
کچھ کچھ ظالم
لوگ مطلب کے ہیں
کسی کو جسم سے تھا مطلب
تو کس کو جسم سے
کوئی نہیں تھا جو کہتا
تم باتیں کرو
جو بھی ہوں
بس کرو
بہت اچھی لگتی ہو باتیں کرتی
مسکراتی
تم مجھے کچھ بھی کہو
میرے لئے بہت کچھ ہو تم
کبھی تم کم نہیں ہوگی
اے پیارے دل
تو چاند ہے
اور چاند کسی کا ہو نہیں سکتا
تو مختلف ہے
تو بہت خوبصورت ہے
جس نے محبت کرنی ہوئی
کر لیگا
ان آنسوں کو بھی صاف کر لیگا
نہ کیے صاف آنسو
تو تم ہو
اور جب تک ہو
خود سے محبت کرو
آمنہ ندیم
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
