Pars Malik 🇵🇰
Entry No. 30
خاموشی کی عمارت میں
خاموشی کی عمارت میں، دروازہ کون بنائے گا
میری اس اندھیرنگری میں، چراغ کون جلائے گا
ہر دیوار پر لکھی ہے، اک ادھوری کہانی
ان سیاہ حروف کو، خندہ پیشانی سے کون مٹائے گا
یہ خاموشی کے پتھر، جو دل پہ رکھے بیٹھا ہوں
انہیں اک نیا راستہ، حوصلہ کون دکھائے گا
میں تو بس ہوں اک راہ گیر، کھویا ہوا مسافر
میری اس بےچینی کو، ہمسفر کون بنائے گا
خاموشی کی اس عمارت میں، دروازہ کھولنا ہو گا
ورنہ یہ سلسلہ رفاقت، خود ہی لوٹ جائے گا
پارس ملک
This poem is not according to the current contest requirements. Please read the contest rules and regulations.
