Marium Faheem 🇵🇰
Entry No. 38
لکھوں گی اِس شب
لکھوں گی اِس شب ایک بات، میں اپنا بیاں لکھوں گی
آرزوئے ناصبور کو پورا کرنے کے ارماں لکھوں گی
خرید لائی ہوں بازارِ مصر سے تنہائیاں
میں اپنے نام اب ہر اک زیاں لکھوں گی
نہ پوچھ مجھ سے میری اُجڑی ہوئی بستی کا پتا
مکاں کو دھواں اور دھوئیں کو مکاں لکھوں گی
تری فرقت میں چُھپا لیے میں نے سبھی آنسو
مگر مژگاں پہ رُکا اک نشاں لکھوں گی
ہوئی ہوں جب سے میں خود سے ہی اِس طرح بے وفا
اب سحر نما کو بھی حالِ مہتاب لکھوں گی
جو خواب ٹوٹ گئے راہِ شوق میں میرے
انہیں بھی قصۂ دردِ نہاں لکھوں گی
میں اپنے دل کے ویران دریچوں پر کبھی
تری یادوں کا خاموش کارواں لکھوں گی
مریم فہیم
This opens the picture in a new tab. To share it: use your phone or browser's own Share option ON THIS POEM'S PAGE (not the picture) — Facebook, WhatsApp, and LinkedIn will then show this image automatically as a preview that opens the poem.
