Zawaal-e-Zaat by Laiba




Laiba 🇵🇰

Entry No. 36

0.0/5 · 0 votes

زوالِ ذات

سنبھالنا تھا مجھے خود کو، خود ہی کو گنوا بیٹھی

جس کلی نے کھِل کر مہکنا تھا، وہ خود ہی مرجھا بیٹھی


جو آنسو میری آنکھوں سے گرتے تھے بوجھ ہٹانے کو

میں نے انہی سے بغاوت کی، آنکھوں کو سُکھا بیٹھی


خود ہی اپنے راستے میں کانٹوں کو بچھایا ہے

جو قسمت نے پھول بچھائے، وہی راستے سے ہٹا بیٹھی


نہیں ہے مجھے کوئی سلیقہ، بات کرنے کا، بتانے کا

مجھے جو خود تک رکھنا تھا، سبھی کو وہ بتا بیٹھی


ظاہراً پُرسکون، یوں تو مسکراتا سا وجود

اندر ہی اندر ہر بات کو میں سینے سے لگا بیٹھی


لائبہ

0.0 / 5 · 0 votes

This poem is not according to the current contest requirements. Please read the contest rules and regulations.

Leave a Reply