شام ڈھلے
کے شام ڈھلے سے پہلے لوٹ آنا
کے شام ڈھل جائے تو لوگ راہیں بھٹک جاتے ہیں
کے شام ڈھلے تو گھبرانا مت
کے ڈھلتی ہے شام روشن ہونے کے لئے
کے شام ڈھلے تو پہلوں میں چھپ جانا
کے یوں میں ڈھونڈھ لونگی صب ہونے تک
کے شام سہ ہو گیا ہے دل
کے شام بھی تو تاریخی میں ڈوبتی ہے
کے شام کے انتظار میں
بیٹھے ہیں صبح بےچین سے
کے شامیں اداس ہے
تیری قربتون میں.
علشبا فرحان
