You are currently viewing Shaam ho gaye by Sabahat Qamar

Shaam ho gaye by Sabahat Qamar




شام ہو گئی

جاگو بنی آدم کے بہت شام ہو گئی
رستے ہیں کٹھن اور بہت شام ہو گئی
ہے منتظر وہاں کوئی خاموش تمہارا
بیٹھو کبھی پہلو میں بہت شام ہو گئی
سورج ہے چھپ گیا پہاڑوں میں اب کہیں
بکھری ہے اداسی کہ بہت شام ہو گئی
پھیکے پڑے ہیں یہاں سبھی رنگ جہاں کے
قوسِ و قزہ بنو کہ بہت شام ہو گئی
غیروں سے ملاقاتوں میں مصروف رہے تم
ہم جلے دردِ ہجر میں کہ شام ہو گئی
جانبِ منزل ہے یہ رات بھی رواں دواں
بس تم ہو بے خبر کہ بہت شام ہو گئی
آؤ درِ جانا پے کبھی دل کو لیۓ تم
ہم غزلیں سنائیں کہ بہت شام ہو گئی

صباحت قمر

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 4.1 / 5. Vote count: 34

No votes so far! Be the first to rate this post.

This Post Has 2 Comments

  1. Alyas

    Zabrdast 🥰😍

  2. Laraib

    Best 👍

Leave a Reply