You are currently viewing Jugno by Amraha Gillani

Jugno by Amraha Gillani




جگنو

اندھیری رات ہے مگر اک جگنو بہت ہے
میرے چاروں طرف تیری خوشبو بہت ہے
تجھے ہر پل دعاؤں میں مانگا پر مل نہ سکا
اس دل میں ابھی تک تیری آ رزو بہت ہے
تیرے سامنے الفاظ الجھ سے جاتے ہیں اپنے
بس تو. ہےجان جاں میرے روبرو بہت ہے
آ خری سانس بھی تجھ پہ لٹا دوں چاہت میں
میرے اندر تیرے عشق کا لہو بہت ہے
میں ہار جاتی ہوں ہر بار قسمت سے وگرنہ
دل میں تجھے پانے کی جستجو بہت ہے
لوگ سمجھتے ہیں چراغوں سے سجھی ہو محفل
میرے لیے بس اک تو میرے جگنو بہت ہے
دل نے تجھے چنا ہے لاکھوں ٹھکرا کر اے ہمدم
ورنہ تو حسن تیرے جیسا ہو بہو بہت ہے
عشق میں جیتے ہیں اسی میں مریں گے امرحہ
تیرے نام پہ مرنے کی ہمیں آرزو بہت ہے

امرھا گیلانی

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 3.2 / 5. Vote count: 6

No votes so far! Be the first to rate this post.

Leave a Reply