You are currently viewing kahan by Tayyaba Hafeez

kahan by Tayyaba Hafeez




کہاں

کہاں کوئی کسی کو یاد کرتا ہے
یوں تو سب یہاں باتیں ہی ہوتی ہیں
کہاں کوئی لب پہ کسی کا نام لاتا ہے
سحر سے پہلے اکثر شمعیں بجھی ہوتی ہیں
کہاں کوئی گلے لگ کہ اب مناتا ہے
خوابوں بھری آنکھیں بھی وقت سے بوڑھی ہوتی ہیں
کہاں اب پہلی سی محبت یہاں ملتی ہے
ان گنت پلوں میں چھپی کئی یادیں ہوتی ہیں
کہاں دو پل کو بھی یہ آنکھیں بند ہوتی ہیں
شورِ دنیا ہے یا جگنوئوں کو ڈھونڈتی ہیں
تاب، کہاں اب تو لوٹ کر بھی نظر جاتی نہیں ہے
راحتیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے زندگیاں تمام ہوتی ہیں

طیبہ حفیظ

This post is not added to the contest. Please check your email.

Urdu Poetry Contest

Urdu Poetry Contest is an online platform dedicated to promoting Urdu poetry, poets, poetry contests, and Urdu literary content.

Leave a Reply